شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی حقیقت یہ ہے کہ ’یونیفارم سول کوڈ ‘ مختلف وجوہ سے ہمارے ملک کے لئے مناسب نہیں ہے ، ایک تو اس سے اقلیتوں کے مذہبی حقوق متاثر ہوں گے ، جو دستور کی بنیادی روح کے خلاف ہے ، دوسرے : یکساں قانون ایسے ملک کے لئے تو مناسب ہوسکتا ہے ، جس میں ایک ہی مذہب کے ماننے والے اور ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہوں ، ہندوستان ایک تکثیری سماج کا حامل ملک ہے ، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ، کثرت میں وحدت ہی اس کا اصل حسن اور اس کی پہچان ہے ، ایسے ملک کے لئے یکساں عائلی قوانین قابل عمل نہیں ہیں ، تیسرے : مذہب سے انسان کی وابستگی بہت گہری ہوتی ہے ، کوئی بھی سچا مذہبی شخص اپنا نقصان تو برداشت کرسکتا ہے ؛ لیکن مذہب پر آنچ کو برداشت نہیں کرسکتا ؛ اس لئے اگر کسی طبقہ کے مذہبی قوانین پر خط نسخ پھیرنے اوراس پر خود ساختہ قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے مایوسی کے احساسات اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوں گے اور یہ ملک کی سالمیت کے لئے نقصان دہ ہے ، ہمارے ...
بسم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحیم (سول کوڈ اور ملک بھارت) اَلْحَمْدُللّٰہِ وَکَفٰی وسَلَامٌ عَلٰی عِبَادہِ الَّذِینَ اصطَفٰی اَمَّا بَعْد: اعُوذُبِااللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم قال اللہ تعالیٰ ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُم بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولٰءِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ‘‘(سورہ مآئدہ ۴۴) محترم حضرات!اس وقت ملک بھارت اور بھارت میں رہنے والے انسان بہت ہی نازک دور سے گزررہاہے شاید بھارت پر آزادی کے بعد سے آج تک ایسا دور نہیں آیاتھا،حکومت چاہ رہی ہے، یونیفارم سول کوڈ بنانا یعنی ایک ہی جیسا قانون مسلم ہندو،سکھ وعیسائی،سب کے لئے ایک ہی قانون ہوہرقوم وملت والے ایک ہی جیسا نکاح کرے،طلاق کے لئے ایک ہی قانون بنے،خلع اوروراثت میں سب کیلئے ایک ہی قانون ہو،جسکو آپ اورہم سمادھان قانون یکساں، برابرقانون سمجھ رہے ہیں۔ اتنے اھم اورنازک عنوان کو لیکر اپنے بزرگوں کے حکم اور موجودہ مسلم سماج کمیٹی چندگڑھ کے مشورہ سے تشریف لایاہوں،اس وقت ہم آپ کی خدمت میں کل چار باتیں پیش کرینگے، (۱)موجودہ حکومت کیا کرناچاہتی ہے؟ (۲)جوکام وہ کرنا چاہتی ہے کیاوہ ہندوستان میں...
بسم اللہ الرحمن الرحیم مروجہ قرآن خوانی آج کل جس طرح قرآن خوانی رائج ہو چکا ہے یہ سراسر بدعت اور ناجائز ہے اور اس پر اجرت لے لینا یہ تو قرآن پر اجرت لینا ہوا جسکی حرمت نصوص شرعیہ سے ثابت ہے نیزاس طرح قرآن پڑھنے والے کو ثواب نہیں ملتا جب پڑھنے والے کو ثواب نہیں ملتا تو مردوں کو کیسے ملے گا؟چنا نچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ولا تشترو اباٰیاتی ثمناقلیلا (البقرہ / ۴۱) ترجمہ : کہ مت لو بمقابلہ میرے احکام کے معاوضہ حقیرکو(ترجمہ تھانوی) اب آئیے اور علامہ ابن عابدین کی عبارت ملاحظہ کریں : فالحاصل انّماشاعت فی زماننا من قرأۃالاجزاء بالاجرۃلا یجوز لانّ فیہ الامر بالقرآۃواعطاء الثواب للآمروالقرأۃلاجل المال فاذالم یکن للقاری ثواب لعدم النّےۃالصحیحۃ فاین یصل الثواب الی المستأجرولو لا الاجرۃماقرأاحدلاحدفی ھذاالزمان بل جعلواالقرآن العظیم مکسباووسیلۃالجمع الدنیا انّاللّہ وانّاالیہ راجعون۔(شامی ۶ / ۵۶) ترجمہ:حاصل یہ کہ ہمارے زمانے میں جو اجرت پر قرآن پاک پڑھنے کا جو رواج ہوگیا ہے یہ جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس میں دوسروں کے کہنے پر قرآن کا پڑھنا اور مال کی وجہ ...
Comments
Post a Comment
شکریہ آپکا کومینڈ مفتی صاحب کے میل تک پہونچ چکا