بسم اللہ الرحمن الرحیم پتنجلی کی چیزیں حرام ہیں الحمد للہ رب العٰلمین الرحمن الرحیم،مالک یو م الدین میں رمضان المبارک کے بعد جب شہر چند گڑھ تشریف لایا تو ایک بندہ نے چلتے چلتے مجھ سے دریافت کیا کہ مفتی صاحب میرے والد محتر م نے آج میرے گھر میں پتن جلی کمپنی کا صابن وغیرہ خریدکر لایاہے، اسکا استعمال کر سکتے ہیں؟ میں نے ان سے کہا بھا ئی پتن جلی کمپنی کا مالک رام دیو بابا نے ایک انٹر ویو میں کہاتھا کہ ہم کائے کا پیشاب ملاتے ہیں،اگر مسلمان نہیں استعمال کرتے ہیں تو یہ انکی مرضی ہے، ہماری قوم اسکو اپنے لئے پوتر سمجھ تی ہے،اور اس کو استعمال کرتی ہے؛ اس لئے ہم اپنے پروجکٹ میں گاؤمتر ملاتے ہیں۔اس لئے اس پس منظر میں پتنجلی کے پروجکٹ کا استعمال کرنا جائزنہیں ہے،میں نے یہ جواب تو انکو دے دیا لیکن میں نے اسی وقت ارداہ کیا کہ اس بات کو پورے عوام کے سام آنا چاہیے، جس کے لئے ہمیں اس عنوان پر کسی جمعہ بات کرنی ہوگی ،لیکن درمیان میں حکومت نے کچھ ایسے مسائل پیش کردئے (یکساں سول کوڈوغیرہ)جس پر تبصرہ کرنا اور امت کے لئے راہ عمل کیلئے نشادہی کرنا نہایت ضروری تھا؛اس لئے مذکورہ عنوان پر اب...
شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی حقیقت یہ ہے کہ ’یونیفارم سول کوڈ ‘ مختلف وجوہ سے ہمارے ملک کے لئے مناسب نہیں ہے ، ایک تو اس سے اقلیتوں کے مذہبی حقوق متاثر ہوں گے ، جو دستور کی بنیادی روح کے خلاف ہے ، دوسرے : یکساں قانون ایسے ملک کے لئے تو مناسب ہوسکتا ہے ، جس میں ایک ہی مذہب کے ماننے والے اور ایک ہی تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہوں ، ہندوستان ایک تکثیری سماج کا حامل ملک ہے ، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں ، کثرت میں وحدت ہی اس کا اصل حسن اور اس کی پہچان ہے ، ایسے ملک کے لئے یکساں عائلی قوانین قابل عمل نہیں ہیں ، تیسرے : مذہب سے انسان کی وابستگی بہت گہری ہوتی ہے ، کوئی بھی سچا مذہبی شخص اپنا نقصان تو برداشت کرسکتا ہے ؛ لیکن مذہب پر آنچ کو برداشت نہیں کرسکتا ؛ اس لئے اگر کسی طبقہ کے مذہبی قوانین پر خط نسخ پھیرنے اوراس پر خود ساختہ قانون مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے مایوسی کے احساسات اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوں گے اور یہ ملک کی سالمیت کے لئے نقصان دہ ہے ، ہمارے ...
بسم اللہ الرحمن ارحیم (فلم بینی اور ویڈیوگرافی کی حرمت) اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’ وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیثِ لِیضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِِ بِغَیرِ عَلْمٍٍ وَّیتَّخِذَ ھَا ھُزُوًا اُوْلٰئکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِینٌ ( لقمان/۶ ) اور بعض ایسا(بھی)آدمی ہے جو ان باتوں کاخریدار بنتاہے جو اللہ سے غافل کر نے والے ہیں تاکہ اللہ کی یاد سے بے سمجھے گمراہ کر دے اور اسکی ہنسی اڑاے ایسے لوگوں کے لئے ذلت کاعذاب ہے ، اس آیت میں اللہ تعالی نے لھو الحدیث سے منع کیا ہے لہو الحدیث سے مراد گانابجانا ،ویڈیو گرافی ، فلم بینی، تصویر کشی ہے بلکہ ہر ایسا عمل جو اللہ کی یادسے غافل کر دے وہ سارے اعمال اس آیت کریمہ میں داخل ہیں، تفسیر روح المانی میں ہے علی ماروی عن الحس (لھو الحدیث ) کل ماشغل عن عبادۃ اللّہ وذکرہ من السمر والضاحیک والخرافات والغناء ونحوھا.... (روح المعانی ) ...
Comments
Post a Comment
شکریہ آپکا کومینڈ مفتی صاحب کے میل تک پہونچ چکا