Posts

Showing posts from October, 2016

zannat ke liye aasan aamal

بسم اللہ الرحمن الرحیم جنت کےحصول کیلئے چار آسان عمل ۔  نبی رحمت ﷺ نے فرمایاجس نے صبح کے وقت تین مرتبہ۔ اَعُوذُبِاللّٰہِ السّمِیعِ العَلِیمَ مِنَ الشّیطٰنِ الرَّجِیمَ۔ پڑھا اور سورہ حشر کی آخری تین آیت بھی پڑھ لیا تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ ستّر ہزار فرشتے مقررفرماتے ہیں، جو اس کے لئے شام تک دعا کرتے رہتے ہیں، اور اگر دن میں انتقال ہو جائے تو اسے شہادت حاصل ہوگی۔اسی طرح اگر شام میں ان دعاؤں کو پڑھ لیا جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں۔ اگر رات میں انتقال ہو جائے تو شہادت کی موت حاصل ہوگی۔ (مشکٰوۃ ۱۸۸) سورہ حشر کی آخری تین آیتیں یہ ہیں۔ ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لٓااِلٰہَ اِلّٰا ھُو عٰلِمُ الغَیبِ وَالشَّھَادَۃِھُوَالرَّحمٰنُ الرَّحِیمُ ھُوَاللّٰہُ الَّذِی لٓااِلٰہَ اِلّٰا ھُواَلمَلِکُ القُدُّوسُ السَّلٰام الْمُؤْمِنُُ المُھَیمِنُ العَزِیزُالجَبَّارُالمُتَکَبِّرُ، سُبحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشرِکُونَ ھُوَاللّٰہُ الخَالِقُ البَارِیءُ المُصَوِّرُلَہُ الاَسمَآئُ الحُسْنٰی، یُسَبِحُ لَہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَ الاَرْضِ، وَھُوَالْعَزِیزُالْحَکِیمُ ********* چالیس د...

kursi par namaz

بسم اللہ الرحمن الرحیم   (کرسی پر بیٹھ کر نماز) آج کل کرسی پر نماز پڑھنا فیشن ہو گیا ہے بڑے بڑے شہروں میں تو باضابطہ کرسیاں اس طرح رکھی ہوتی ہیں گویاکہ ابھی کچھ مہمان آنے والے ہیں! اور اگر ذمہ دارانِ مسجد کرسیوں کا انتظام نہ کریں تو باضابطہ ہنگامہ کیا جاتاہے مشکل امرتو یہ ہے کہ بعض مسجدوں میں ایسی کرسیاں ہوتی ہیں کہ اس پر نقش ونگاری بھی ہوتی ہیں اور اسی کے ساتھ سامنے سجدہ کرنے کے لئے بینچ بھی ہوتی ہیں حالاں کہ یہ تمام چیزیں غیر ضروری ہیں فقہا نے ان کی کراہت نقل کیا ہے ۔ (کرسی پر نماز پڑھنا کس کے لئے جائز ہے ) اس سلسلہ میں وہ تما م تفصیلات پر ضرور دھیان رکھیں جس کا تذکرہ ہم اس پہلے شائع شدہ مضمون قیام کی فرضیت اور ہماری کوتاہی میں کر چکے ہیں نیز جو شخص قیام پر بالکل قادر نہ ہو تو اس کے لئے دربار نبوت سے بیٹھ کر رکوع اور سجدہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا سبق ملا ہے اور اگر بیٹھ کر رکوع اورسجدہ کرنے پر قادر نہ ہو توبھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کرے اور رکوع اور سجدہ سرکے شارہ سے اس طرح کرے کہ سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارہ سے زیادہ جھکاہواہو ۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ’’فاذکرواللّٰہ قیاماً و...

nimaz min qiyam awr hamari kotahi

بسم اللہ الرحمن الرحیم (قیام کی اہمیت اور ہماری کوتاہی) بعض حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں سے بات چیت کرتے وقت دس دس منٹ کھڑے رہتے ہیں اور نماز پڑھتے وقت سرے سے بیٹھ کرہی نماز پڑھتے ہیں اس صورت میں قیام اور سجدہ پر قدرت ہونے کی وجہ سے اس کی نماز ہی نہیں ہو تی،اور بعض تو معمولی بخار ،نزلہ اور ہلکی تکلیف سے بیٹھ کر نماز پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اس صورت میں اور بالخصوص کرسی پر وہ بھی اشارہ سے رکوع وسجدہ کرتے ہوئے فساد نماز کا باعث ہے،جبکہ فقہاء نے یہاں تک لکھاہے کہ اگر کوئی شخص صرف اتنی دیر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہو جتنے دیر میں تکبیر تحریمہ کہہ سکیں تو اس پر کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہنا ضروری ہے۔ وان قدر علی بعض القیام ولو متکئاً علی عصا او حائط قام لزوماً بقدر مایقدر ولو قدر آےۃ او تکبیرۃ علی المذھب لان البعض معتبر بالکل (در مختار مع الشامی ۲ /۹۷ وکذا فی مراقی الفلاح ۱/۱۶۶وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ علی مختصر القدوری ۱/۷۹) اگر کوئی قیام کے کچھ حصہ پر قادر ہواگر چہ لاٹھی پر ٹیک لگاکر یا دیوار سے ٹیک لگاکر تو کھڑا ہونا ضروری ہے اتنی دیرجتنی دیر کھڑاہو سکتاہو ،اگر چہ ایک آیت کے بقد...

siwil code or india

بسم اللّٰہ الرَّحمٰن الرَّحیم (سول کوڈ اور ملک بھارت) اَلْحَمْدُللّٰہِ وَکَفٰی وسَلَامٌ عَلٰی عِبَادہِ الَّذِینَ اصطَفٰی اَمَّا بَعْد: اعُوذُبِااللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم قال اللہ تعالیٰ ’’وَمَنْ لَّمْ یَحْکُم بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَأُولٰءِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ‘‘(سورہ مآئدہ ۴۴) محترم حضرات!اس وقت ملک بھارت اور بھارت میں رہنے والے انسان بہت ہی نازک دور سے گزررہاہے شاید بھارت پر آزادی کے بعد سے آج تک ایسا دور نہیں آیاتھا،حکومت چاہ رہی ہے، یونیفارم سول کوڈ بنانا یعنی ایک ہی جیسا قانون مسلم ہندو،سکھ وعیسائی،سب کے لئے ایک ہی قانون ہوہرقوم وملت والے ایک ہی جیسا نکاح کرے،طلاق کے لئے ایک ہی قانون بنے،خلع اوروراثت میں سب کیلئے ایک ہی قانون ہو،جسکو آپ اورہم سمادھان قانون یکساں، برابرقانون سمجھ رہے ہیں۔ اتنے اھم اورنازک عنوان کو لیکر اپنے بزرگوں کے حکم اور موجودہ مسلم سماج کمیٹی چندگڑھ کے مشورہ سے تشریف لایاہوں،اس وقت ہم آپ کی خدمت میں کل چار باتیں پیش کرینگے، (۱)موجودہ حکومت کیا کرناچاہتی ہے؟ (۲)جوکام وہ کرنا چاہتی ہے کیاوہ ہندوستان میں...

naimaj min qiyam

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (نماز میں قیام) ’’وَقُوْمُوْلِلّٰہِ قَانِتِیْن‘‘ اور تم اللہ کے لئے سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ امام رازیؒ نے اس آیت کریمہ کے ذیل میں سلف کے چھ اقوال ذکر کر تے ہوے فرماتے ہیں : (۶) قنوتسے مراد قیام ہے اس قول کی تائید بھی حدیث پاک سے ہو تی ہے آپ ﷺ کا فر مان ہے ’’عن جابر سئل النبی ﷺ ایُّ الصلوٰ ۃافضل قال طول القنوط‘‘ ( مأخوذ من تفسیر رازی ۶/۴۸۸ وکذا فی کشاف ۱/۲۸۸ ) علامہ کأسانی ؒ فرماتے ہیں : ’’قال اللّٰہ تعالیٰ:وَقُوْمُوْلِلّٰہِ قَانِتِیْن(بقرۃ)وَالْمرادُ منہ القیامُ فی الصلاۃِ ‘‘ (بدائع الصنائع۱/۱۰۵) یعنی اللہ تعالیٰ کافرما ن ’’ قُوْمُوْلِلّٰہِ قَانِتِیْن (بقرۃ۲۳۸) ‘‘میں مراد نماز میں کھڑا ہو ناہے۔ صاحب عنایہ فرماتے ہیں : وکذالک القیام لقولہ تعالیٰ قُوْمُوْلِلّٰہِ قَانِتِیْن (بقرۃ ۲۳۸)(العنایۃ شرح الھدایۃ ۱/۲۷۵) یعنی نماز میں قیام فرض ہے اور اس کی فر ضیت اللہ تعالیٰ کا فرمان ’’قُوْمُوْلِلّٰہِ قَانِتِیْن‘‘ سے ثابت ہے۔ (قیام کی فرضیت ائمہ کے نزدیک) قیام کی فرضیت پر تمام ائمہ کرام کااتفاق ہے کہ جو قیام پر قادر ہو اس کے لئے فرض نمازوں میں قیام کرن...

namaz ke faraiz sharait

                                             بسم اللہ الرحمن الرحیم ( نماز کے شرائط ) نماز کے شرائط سات ہیں یعنی جس کے بغیر نماز کاشروع کرنا درست نہیں   (۱) بدن کا پاک رہنا ( وضو اورغسل دونوں رہنا ) (مسلم : باب وجوب الطھارۃ للصلوۃ) (۲) کپڑوں کاپاک ہونا  (مسلم : باب وجوب الطھارۃ للصلوۃ) (۳)  جگہ کا پاک ہو نا (ابوداؤد : باب فی مواضع التی لا تجوزفیھا الصلوۃ) (۴)  ستر کا چھپانا (ترمذی : باب ماجاء فی الصلوۃ) (۵)  قبلہ کی طرف منھ کرنا  (بخاری : باب فضل الصلوۃ علی وقتھا) (۶)  نماز کا وقت ہونا (ترمذی : باب ماجاء فی ابتداء القبلۃ ) (۷)  نیت کرنا  (بخاری : کتاب الحیل باب فی تر ک الحیل الخ ) ( نماز کے فرائض)نماز میں چھ فرض ہیں   (۱)  تکبیر تحریمہ کہنا  (ابوداؤد :باب فی تحریم الصلاۃ ) (۲)  قیام کرنا  (بخاری ۱/۱۵۰ کتاب تقصیر الصلوٰۃ باب اذا لم یطق قاعداً ) (۳)  قرائت کرنا  (بخاری ...

zannat ke das aamal

Image
بسم اللہ الرحمن الرحیم جنت میں لے جانےوالےدس مختصر اعمال   (۱)پہلاعمل اچھی طرح وضو کر کے کلمہ شہادت پڑھنے پر جنت کی بشارت ہے۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر کہا۔  اَشھَدُاَن لااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ واَنَّ مُحَمَّدًاعَبدُہٗ وَرَسُولُہٗ ، تو اس کے لیےجنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جا ئیں گے،وہ جس سے چاہے داخل ہو جائے۔ (مسلم ۱:۱۲۲)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ جس نے کلمہ شہادت کے بعد یہ آیتیں بھی پڑھی،اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئے جا ئیں گے۔وہ جس سے چاہے داخل ہو۔ وہ آیت یہ ہے۔  اَلّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنَ التَّوَّابِینَ وَاجعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَھِّرِینَ ۔  (ترمذی ۱:۱۸ باب مایقال بعدالوضو) (۲)دوسراعمل وضو کے بعدتحیتہ الوضوکی نیت سے دورکعت نفل پڑھنے پر جنت کی بشارت۔ حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایاکہ جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر وہ کھڑا ہوا اور دورکعت خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھا تو اس کےلیئے جنت واجب ہوگی۔ (مسلم ۱:۱۲۱) (۳)تیسراعمل حالتِ ایمان پر فوت ہوا تو جنت ۔ چنا ...

جنت کیلئے مختصر عمل

Image
بسم اللہ الرحمن الرحیم (ایک مختصر عمل پر جنت)     آپ ﷺنے فرمایا کہ جس نے چالس احادیث یاد کی وہ جنت میں داخل ہوگا،چنا نچہ بے شمار محدثین کرام نے چہل حدیث لکھی ہے۔ ہم بھی ہاں چہل حدیث نقل کرتے ہے، جو نہایت ہی مختصر ہے،؛لیکن مہماتِ دینیہ کو ایسی جامع ہے کہ اسکی نظیر ملنا مشکل ہے،جسکو حضرت شیخ زکریاؒ نے فضائل قرآن مجید کے آخرمیں حافظ ابوالقاسم بن عبدالرحمن بن محمد بن اسحاق بن مندہ اور حافظ ابوالحسن علی بن ابوالقاسم بن بابویہ رازی کے حوالہ سے نقل کیا ہے، اورمولانا قطب الدین صاحب مہاجر نے بھی اسکو ذکر کیا ہے۔ (حدیث یہ ہے) حضرت سلمانؓ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ وہ چالس حدیثیں جن کے متعلق آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو انکو یادکریگا وہ جنت میں داخل ہوگا، وہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ یہ ہے۔ ۱؂ اللہ پر ایمان لاوے ۲؂ اور آخرت کے دن پر ۳؂ اور فرشتوں پر ۴؂ اور تمام آسمانی کتابوں پر ۵؂ اور تمام انبیاء  کرام پر ۶؂ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ۷؂ اوراچھی بری تقدیر پر کہ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوئے ہیں ۸؂اور گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو ئی معب...
بسم اللہ الرحمن الرحہیم از قلم حضرت مفتی مولانا عبداللہ عزرائیل صاحب قاسمی مدھوبنی،تصحیح مولانا فیض الرحمن قاسمی مدہوبنی سول کوڈ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ربِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلٰی سَیِّدِ المُرْسَلِیْن وَ العَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْن امَّا بعد محترم قارئین ملک بھارت کی حالت بہت ہی نازک دور سے گزر رہی ہے حکومت کی پالیسی چل رہی ہے ،کہ پورے بھارت میں ایک ہی جیسا قانون چلے (جو ناممکن در ناممکن ہے)یعنی ایک ہی طرح نکاح ہو ،طلاق کیلئے ایک ہی قانون بنے ،عورتوں کی وراثت میں ایک ہی قانون چلے،جس کا سب کے لئے ماننا ضروری ہو،(چاہے وہ جس مذہب و مسلک کا ماننے والاہو ہندو ہو کے مسلم سکھ ہو کے عیسائی ،وغیرہ )جس کو دوسری زبان میں یونیفارم سول کوڈکہاجاتاہے اس وقت پیپر میڈیا الکٹرانک میڈیا پر یہی بحثیں گرماگرم ہے،ایک طرف موجودہ حکومت جھوٹی ہمدردی بتاکر مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کرکے سب کے سر پر اپناجبری قانو ن تھوپنا چاہ رہی ہے ؛تودوسری طرف اس کی حمایت میں کچھ نام نہاد مٹھی بھر مسلمان بلکہ ایمان وضمیر فروش اسلام مخالف طاقتوں کے اٰلہ کار اس کی حمایت میں لگے ہو ئے ہیں ، جب کے...