Posts

Showing posts from October, 2017

sim card

Image
بسم اللہ الرحمن الرحیم (سیم کارڈ) سوال : کیا دوسرے کے نام پر سیم لینا درست ہے ؟ جواب : جس کے نا پر سیم لے رہاہے اگر اسکی اجازت ہو تو درست ہے ۔لیکن حالات کے پیش نظر اس عاجز کی رائے ہے اپنے ہی نام پرسیم لیں اور اپنے نام کی سیم کسی کو نہ دیں ۔ سوال :  بعض دوکاندار سیم کسٹمر سے زیادہ آئی ڈی لیکر اسی کے نام پر ایک اورسیم کارڈ مزید بینی فیٹ حاصل کر نے کیلئے لیتے ہیں اور اس سیم کو یوں ہی رکھ کر ضائع کر دیتے ہیں کیا یہ درست ہے ؟  جواب :  یہ درست نہ ہوگا کیونکہ اس نے کسٹمر کی آئی ڈی پر اس کی اجازت کے بغیرسیم کارڈ لیا ہے دوسری بات یہ ہے کہ اس نے کمپنی کے ساتھ دھوکہ کیا کمپنی کو یہ بتاکر کہ یہ سیم عام کسٹمر نے لیا ہے اور اس پر ملنے والے بینی فیٹ حاصل کرلیا ۔ سوال :  ایک کمپنی کی سیم کو دوسرے کمپنی کی جانب منتقل (Porting)کرناکیسا ہے؟ جواب : اس طرح کا معاملہ مارکیٹوں میں کمپنی کی اجازت ہی سے چل رہا ہے اس لئے سیم کاپورٹنگ کرنا جائز ہوگا ،   اسی ملتے بہت ہی اہم مضامین معیشت وتجارت کی فضیلت موبائل کے فائدے موبائل ک...

mis call

Image
miss call ke masail مس کال کے مسائل بسم اللہ الرحمن الرحیم (مس کال) آج کل دوسروں کو مس کا ل دینا عام ہو گیا ہے ،ہر کسی کو دیکھو تو وہ مس کال کے پیچھے پڑا ہو ہے جبکہ  اس  سے بعض دفعہ  سامنے والے کو تکلیف بھی ہوتی ہے ، اب اس پس منظر میں چند سوالات ہیں جنکا شرعی جوابات بھی پیش خدمت ہے ۔ سوال : دوسرے کو مس کا ل دیکر پریشان کرنا کیسا ہے ؟ جواب :  ناجائز ہے ،مس کال کرکے دوسروں کی مصروفیات میں خلل ڈالنا ایذادیناہے اور کسی کوتکلیف دینا حرام ہے ۔  المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ  (بخاری ۱ /۶ )  سوال :  مس کال کرنا اس نیت سے کہ سامنے والا فون کریگا تو با ت کرنا ہے کیسا ہے؟   جواب :  جس کو مس کال کیا گیا اس کے متعلق معلوم ہو کہ وہ مس کال کا جواب دیگا اور دینے میں اسکو کسی قسم کی ناگواری نہیں ہو گی تو درست ہے ۔  سوال :  موبائل میں بیلنس رہتے ہوئے اپنے بیلنس بچانے کی نیت سے مس کال کرنا کیسا ہے ؟ جواب :   یہ سراسر بخل ہے اور شریعت میں بخل کی اجازت نہیں ہے   عن ابی ھریرۃؓ ا...

film awr video ki hurmat

Image
                                بسم اللہ الرحمن ارحیم (فلم بینی اور ویڈیوگرافی کی حرمت)                 اللہ تعالی کا ارشاد ہے  ’’ وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیثِ لِیضِلَّ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِِ بِغَیرِ عَلْمٍٍ وَّیتَّخِذَ ھَا ھُزُوًا اُوْلٰئکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِینٌ  ( لقمان/۶ ) اور بعض ایسا(بھی)آدمی ہے جو ان باتوں کاخریدار بنتاہے جو اللہ سے غافل کر نے والے ہیں تاکہ اللہ کی یاد سے بے سمجھے گمراہ کر دے اور اسکی ہنسی اڑاے ایسے لوگوں کے لئے ذلت کاعذاب ہے ، اس آیت میں اللہ تعالی نے لھو الحدیث سے منع کیا ہے لہو الحدیث سے مراد گانابجانا ،ویڈیو گرافی ، فلم بینی، تصویر کشی ہے بلکہ ہر ایسا عمل جو اللہ کی یادسے غافل کر دے وہ سارے اعمال اس آیت کریمہ میں داخل ہیں، تفسیر روح المانی میں ہے  علی ماروی عن الحس (لھو الحدیث ) کل ماشغل عن عبادۃ اللّہ وذکرہ من السمر والضاحیک والخرافات والغناء ونحوھا.... (روح المعانی )   ...