madaris ko sarkari imdad nahi qubol krni chahy
بسم اللہ الرحمن الرحیم (تطیل بندی جمعہ بندی) دراصل اس تحریر کو اسی وقت سپر د قرطاس کرنے کی تمنا تھی جب قوم وملت کے پیشواؤں ، ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ نے مودی حکومت کے کڑوروں روپیے ٹھکرادے ،اور حکومت سے کسی قسم کی امداد لینے سے انکار کردئے۔جب دارالعوم نے یہ قدم اٹھایا تو ہمیشہ کی طرح کچھ ضمیر فروش نے نقطہ چینی کی اور اس امداد کو نہ لینی پر تنقید کیا، آج کی تحریر انہیں عقل سے پیدل لوگوں کی تیمارداری میں نیٹ سے شائع کرہاہوں۔ ۱۸۵۷ میں جب دہلی پر تاج برطانیہ لہرانے لگا اورہندوستان میں صدیوں چلتی ہوئی تعلیمی نظام کو کلیتاً ختم کر دیا گیا ،تواس وقت دور اندیش ،قوم وملت کے لئے جینے والی نفوس قدسیہ نے مدراس اسلامیہ کا نیا جال بچھا یا ،جس کی ایک اہم معتبر تاریخی کڑی دارالعلوم دیوبند ہے ،جس کے ’’اصولِ ہشتگانہ‘‘ کے تحت دینی مدارس سرکاری امداد نہ لینے کے پابند ہیں۔ یہی وہ اصول ہے جسکی پاسداری کرتے ہوئے دارالعلوم نے حکومت کے اس گراں قدر گرانٹ کو قبول کرنے سے انکا کر دیا ۔ اس انکار کی بے شمار وجہوں میں سے ایک عظیم وجہ یہ بھی ہے کہ سرکاری امداد دینی...